اقبال اکادمی پاکستان
  English  

مشرقی دل و دماغ صدیوں سے اس سوال میں مُستَغَرق ہے کہ کیا خدا کا وجود ہے؟ میں نیا سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جو کہنے کو مشرق کے لیے نیا ہے کہ کیا انسان کا وجود ہے؟

(شذدراتِ فکرِ اقبال)



تعارف:

اقبال اکادمی پاکستان حکومت پاکستان کے زیر انتظام آئینی ادارہ ہے۔ اس کا قیام اقبال اکادمی آر ڈی نینس ۱۹۶۲ء کے تحت بطور مرکز ِ فضیلت برائے اقبال شناسی عمل میں آیا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد علامہ اقبال کے شعر و حکمت کا مطالعہ و تفہیم، اس کی تحقیق و تدوین، اس کا ابلاغ و تعارف اور تشر و اشاعت کا اہتمام ہے ۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے اقبال اکادمی جو کام کرتی ہے وہ ذیل میں ہیں: مطبوعات، اطلاعیات کے منصوبے، روابط بڑھانے کا پروگرام، اقبال ایوارڈ لائحہ، ویب گاہیں، تحقیق و تدوین، صوت و صدا، ملٹی میڈیا، ذخیرہ کرنے کے منصوبہ جات، ان کے علاوہ نمائیشیں، کانفرنسیں، سیمی نار، بیرونِ ملک علامہ اقبال کا پیغام پھیلانا، تحقیق میں راہنمائی، علمی معاونت، مالی مدد اور کتب خانہ کی خدمات، وغیرہ

اقبال اکادمی کا کتب خانہ اقبالیات پر دنیا کا قدیم ترین اور سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اس کے ذخیرہ میں اہم بین الاقوامی زبانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی علاقائی زبانوں میں اقبالیات اور اس سے متعلقہ موضوعات پر کتب موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ نایاب اور قدیم مجلات اور اہم کتب بھی شامل ہیں۔ یہ کتب خانہ ناصرف اکادمی کے تحقیقی منصوبہ جات کے لیے علمی و حوالہ جاتی مدد فراہم کرتا ہے بلکہ ہر سال کثیر تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور ماہرینِ اقبال بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

اقبال اکادمی کے کتب خانے کو ۱۹۸۹ میں پہلے کثیر اللسانی کوائفیہ تیار کرنے کا بےمثل اعزاز حاصل ہے۔ گذشتہ سال اکادمی نے دنیا بھر کے طلبہ اور قارئین کی سہولت کے لیے انٹرنیٹ پر علامہ اقبال کی سب سے بڑی اور استعمال میں سہل ویب گاہ تیار کی ہے۔

 
علامت سر ورق
علامت تعارف
علامت تنظیمی خاکہ
علامت قواعد و ضوابط
علامت رکنیت
علامت مطبوعات
علامت تقریبات
علامت کتب خانہ
علامت پیشکش
علامت ملازمتیں
علامت رابطہ
تشکیل کندہ: فیصل وحید، زیرِ نگرانی: محمد نعمان چشتی